اس سال موسم گرما کی تعطیلات 15 مئ سے 14 جولائی تک ہوں گی

وزیر تعلیم ومحنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات 16 مارچ سے شیڈول کے مطابق ہوں گے،جبکہ 2020-21 کا نیا تعلیمی سال 15 اپریل سے شروع ہوگا،رواں سال موسم گرما کی تعطیلات 15 مئ سے شروع ہوں گی اور یہ 14 جولائی تک رہیں گی ،انٹر میڈیٹ کے امتحانات بھی اپنے شیڈول کے مطابق ہوں گے ،جبکہ سندھ بھر کے تمام سرکاری ونجی تعلیمی ادارے پیر سے کھول دئیے جائیں گے ،تاہم ان میں تدریسی عمل 16 اپریل سے ہی شروع ہوگا،محکمہ تعلیم کے تمام دفاترکی 2 چھٹیاں ختم کر کے صرف ایک چھٹی کردی گئی ہے جو اتوار کو ہوگی اور کام کے اوقات کار اب صبح 8 بجے سے سہ پہر3 بجے تک رہیں گے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز محکمہ تعلیم کلے اسٹیرینگ کمیٹی کے اجلاس کے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا،اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے بورڈ و یونیورسٹیز نثار احمد کھوڑو،سیکریٹری تعلیم خالد حیدر شاہ ،سیکریٹری کالجز،سیکریٹری یونیورسٹیز ،ایم ڈی ایس ای ایف سمیت محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران تمام بورڈز کے چئیرمینز ،پرائیوٹ اسکول منیجمنٹ کے عہدیداران ،ماہر تعلیم ودیگر بھی موجود تھے،اجلاس میں گزشتہ اسٹرینگ کمیٹی کے اجلاس کے منٹس کی منظوری دی گی،جبکہ تمام شرکاءسے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس سال یعنیٰ 2020-21 کا تعلیمی سال 15 اپریل میں شروع کیا جائے گا اور یہ اگلے سال مارچ میں ختم ہوگا ،جبکہ 2021-22 اور بعد ازاں بھی سندھ بھر میں تعلیمی سال یکم اپریل سے ہی شروع ہوگا،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ اس سال کرونا وائرس کے باعث پہلے ہی اسکولوں میں تعطیلات بہت ہوچکی ہے اور اس سال عید مئی کے آخری ہفتے میں آرہی ہے اس لئے موسم گرما کی اس سال تعطیلات 15 مئی سے 14 جولائی تک کی جائیں گی ،تاہم آئندہ سال سے یہ تعطیلات یکم جون سے 31 جولائی تک ہوں گی،ایک سوال پر سعید غنی نے کہا کہ امتحانی مراکز میں کوئی بھی غیر متعلقہ شخص داخل نہیں ہوسکے گا،جبکہ مجسٹریٹ یا محکمہ تعلیم اور بورڈ کے افسران بھی بورڈ آفس کے اجازت نامے اور جاری کردہ خصوصی کارڈ دیکھا کر ہی امتحانی مراکز میں داخل ہوسکیں گے،البتہ میڈیا کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے ،انہوں نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ نقل کی روک تھام کے لئے بہت سے اقدام لئیے گئے ہیں جس میں کسی بھی طالب علم ،استادیا غیر تدریسی عملے کو امتحانی مراکز کے اندر موبائل فونز لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی،اگر کسی کے پاس موبائل فون برآمد ہوا تو اسے ضبط کرلیا جائے گااور اسے سرکاری خزانے میں جمع کرلیا جائے گا،اگر کوئی بچہ نقل کرتے ہوئے پکڑا گیا تو اسے آئندہ دوسرے کسی پیپرز میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اگر کوئی استاد یا غیر تدریسی عملہ نقل کرانے میں ملوث پایا گیا تو اسے ملازمت سے برخاست کردیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ امتحانی مراکز میں اسمارٹ واچ ،ٹیبلٹ یا دیگرکوئی بھی الیکٹرونک ڈیوائس لے جانے پر پابندی ہوگی ،انہوںایک سوال کے جواب میں کہا کہ تمام بورڈز کے چئیرمینز نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ پیپرز سے قبل پیپرز آوٹ نہ ہو ،اس کے لئے وہ تمام اقدامات کو بروئے کار لائیں گے اور پیپرز پر مخصوص نشان درج کئیے جائیں گے جس سے یہ معلوم ہوسکے گا کہ پیپر ز کس سینٹرز کا ہے ،انہوں نے کہا کہ امتحانات میں نقل کی نشاندہی کرنے والوں کے لئے ایک واٹس ایپ نمبر اور پی ٹی سی ایل نمبر بھی دیا جائے گا اور اس پر اطلاع دینے والے کی اگر خبر درست ہوئی تو اسے انعام دے نوازا جائے گا،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسکولوں کی تعطیل کا فیصلہ ایک مشکل فیصلہ تھا ،تاہم ہمارے پاس بچوں کو کرونا وائرس سے بچانے کے لئے دیگر کوئی چوائس نہیں تھی،تاہم پی ایس ایل کے میچز میں جانے والوں کے لئے چوائس موجود ہے کہ ان میں اگر کرونا وائرس کا خدشہ ہوا تو میچ میں نہ جائے اور اگر جانا چاہے تو احتیاطی تدابیر کے ساتھ جائیں،انہوں نے کہا کہ اجلاس میں اسکولوں اور کالجز کے اوقات کا ر سالانہ تعطیلات سمیت دیگر امور کا بھی جائزہ لیا گیا او ر تمام اسٹیک ہولڈر ز کی مشاوت سے فیصلے کئے گئیے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X